محرم الحرام 1433 ھ کے طلوعِ ہلال کے ساتھ ہی دنیا بھر میں سال نو کا آغاز غمِ شبیر سے ہوگیا اور دنیا بھر میں موجود عزادارانِ امامِ مظلوم نے ظلم کے خلاف جدوجہد کی تجدیدِ عہد کی۔ جبکہ کم و بیش بیس فیصد (سرکاری اعداد و شمار) شیعہ آبادی والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہمیشہ کی طرح نئے سال کا آغاز خوف و دہشت کے عالم میں ہوا۔ اس ملک میں بسنے والے محبانِ اہلبیت زہنی طورپر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے لیئے تیار رہتے ہیں مگر اس سال یزیدی قبیل نے کسی بڑے موقع یا اجتماع کا انتظار کیئے بغیر ہی یکم محرم کو رب العٰلمین سے کیئے گئے اپنے جد کے اس عہد کی تجدید کی جو اس نے آفرینش کائنات کے موقع پر خدا سے کیا تھا۔ واقعہ کی تفصیلات سے سب ہی آگاہ ہیں کہ کس طرح سے سانحۂ نمائش وقوع پذیر ہوا اور کیسے دو معصوم جانوں سے کھیل کر یہ دہشت گرد سکون سے فرار ہوگئے۔ اور اسکے بعد حکومت اور انتظامی مشینری کے وہی گھسے پٹے راگ بجنا شروع ہوگئے، جن کا تذکرہ کرتے کرتے قلم بھی گھس چکے ہیں۔ یہاں تین باتیں قابل ذکر ہیں:ہمارا تو یہ عقیدہ اور ایمان ہے، جبکہ جسکا کوئی دین ایمان نہیں، وہ بھی یہ مانتا ہے کہ موت برحق ہے۔ اب یہ موت بستر پر آئے، کسی ٹرک تلے کچلے جانے کے نتیجے میں آئے، میدان جنگ میں آئے یا کسی ناصبی خارجی کی گولی یا خودکش دھماکے کی صورت میں آئے، یہ موت کو گلے لگانے والے کا ذاتی مقدر ہے۔ مقام افسوس ضرور ہے کہ کسی گھر کا روشن چراغ یونہی شیطان کی ایک پھونک سے بجھا دیا جائے، مگر لائق رشک و تحسین ہیں زین اور اظہر اور ان جیسے ہزاروں شہداء، جن کی موت کی وجہ شیطان کی سب سے بڑی مخالف، حبِ آل محمد (ص) بنی۔ میرا یقین ہے کہ علی اصغر کے سوکھے لبوں کی یاد میں پیاسوں کو پانی پلانے والوں کا استقبال ساقی کوثر نے کیا ہوگا۔ ان کے خون آلود اجسام تو مٹی تلے دب گئے مگر ارواح کو وہ رفعت ملی ہوگی جو سب کا مقدر نہیں۔دوسری بات کا مخاطب حزبِ شیطان ہے جو اپنی جہالت میں اس حد تک ڈوب چکا ہے کہ اسے اندازہ ہی نہیں کہ وہ خود فروغِ عزاداری کا سب سے بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔ شاید ہم اپنی معمول کی عزاداری تک ہی محدود رہتے مگر روز بہ روز اس کا دائرہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ایک شیعہ کو شہید کرنے کے نتیجے میں عزاداری سید الشہدا (ع) کا ایک اور لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ شہید کے اپنے گھر کے علاوہ جہاں جہاں اس کی شہادت کی خبر پہنچتی ہے، اس کی بلندی درجات کے لئے ذکرِ حسین (ع) شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی تعزیتی جلسوں کی صورت میں تو کبھی سوئم، چہلم اور برسی کی صورت میں۔ حزبِ شیطان جتنے زیادہ محبانِ اہلبیت (ع) کو فردوس کی جانب بھیجے گا، اس کے پیچھے پیچھے شہید کی بلندی درجات کے لئے اتنی ہی مجالس ہوں گی جو شیطان کی مرگِ تمنا کی نوید ہیں۔ جہاں خدا نے شیطان کو اپنا کھیل کھیلنے کی مہلت دی، وہیں اس نے اپنا نام لینے والوں سے بھی ان کا ذکر عام کرنے کا وعدہ کیا۔ اور کیا کہنے امامِ عالی مقام (ع) کے جنہوں نے خدا کا نام ایسا بلند کیا کہ جواباً خدا نے نامِ حسین (ع) کا تاقیامت بول بالا کردیا۔ اب شیطان جتنا جلےاور کڑھے، ہر ہر شہید کی حیاتِ جاودانی کے موقع پر حسین کا ذکر یونہی پھیلتا اور بلند ہوتا رہیگا جو ایک دن شیطان اور اس کی نجس نسل کو اپنی موت آپ ماردیگا۔ انشاءاللہ۔تیسری گذارش حکومت اور انتظامیہ سے ہے کہ جناب لوگوں کے کان پک گئے ہیں آپ کے رٹے رٹائے بیانات سن سن کر۔ سادات وغیر سادات، شیعہ و سنی محبانِ اہلبیت (ع) کا خون اتنا ارزاں نہیں کہ جب جس کا دل چاہا، سلیمانی ٹوپی چڑھا کر معصوم جانوں سے کھیل گیا۔ ایک انسان اپنی تخلیق کے ہزارہا مراحل سے گزر کر خدا کے ناز کا باعث بنتا ہے۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی کسی بھی مخلوق کو یوں آنِ واحد میں ختم کردیا جائے، جبکہ شہید ہونے والے عام انسان نہیں، آپکے اس رسول (ص) کے خانوادے کا ذکر کرنے والے ہیں، جس پر آپ خود صدقے واری جاتے ہیں اور جس کے حضور کل آپ نے خود بھی پیش ہونا ہے۔ ان شہداء نے آپ کی کوئی مزدوری نہیں کی، جو ان کے وارثان کو معاوضے کی لوری سنادی جاتی ہے۔ ان جانوں کی قیمت جنت ہے، جو جنت کا مالک ان کو دے چکا۔ آپ اپنی فکر کیجئے، جب آپ کی برحق موت آپ کی دہلیز پر ہوگی تو کیا آپ میں اتنا دم ہوگا کہ اسے گلے لگا سکیں اور جہانِ آئندہ میں اپنے رسول (ص) کا سامنا کر سکیں۔ عقلمندی کا تقاضا تویہ ہوگا کہ یزیدِ وقت کو دی گئی سلیمانی ٹوپی واپس لے لی جائے اور اسے ایسی سزا سے دوچار کیا جائے جو اس کی اگلی پچھلی نسلوں کو یاد رہے۔ شاید یہ ایک فعل آپ کی عاقبت سنوار دے۔........../110
28 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 281199
محرم الحرام 1433 ھ کے طلوعِ ہلال کے ساتھ ہی دنیا بھر میں سال نو کا آغاز غمِ شبیر سے ہوگیا اور دنیا بھر میں موجود عزادارانِ امامِ مظلوم نے ظلم کے خلاف جدوجہد کی تجدیدِ عہد کی۔